تحریر Muhammad Faisal, Editorial team 3 منٹ تازہ کاری
والدہ کا حصہ دیکھنے میں سب سے آسان اصول لگتا ہے، اور اسی میں وہ ایک نکتہ چھپا ہے جو سب سے زیادہ غلط لگایا جاتا ہے۔ اپنا معاملہ کیلکولیٹر میں ایک منٹ میں نکل آئے گا۔
اصول
قرآن، النساء ۴:۱۱ کے مطابق:
- تہائی — جب میت کی کوئی اولاد یا پوتا پوتی نہ ہو، اور بہن بھائی دو سے کم ہوں۔
- چھٹا حصہ — جب کوئی اولاد یا پوتا پوتی موجود ہو، یا دو یا زیادہ بہن بھائی زندہ ہوں۔
یہاں "اولاد" میں بیٹی بھی شامل ہے، اور بیٹے کی اولاد بھی۔ "بہن بھائی" میں حقیقی، علاتی اور اخیافی سب شامل ہیں۔
وہ اصول جو اکثر چھوٹ جاتا ہے
بہن بھائی والدہ کا حصہ کم کر دیتے ہیں چاہے اُنہیں خود کچھ نہ ملے۔
ایک شخص کا انتقال ہوا، زندہ ورثاء: والدہ، والد اور تین بہنیں۔ والد تینوں بہنوں کو محروم کر دیتا ہے — اُنہیں ایک روپیہ نہیں ملتا۔ لیکن والدہ پھر بھی تہائی نہیں لیتیں:
| وارث | حصہ |
|---|---|
| والدہ | ۱/۶ |
| والد | ۵/۶ |
| تین بہنیں | کچھ نہیں — والد کی وجہ سے محروم |
اُن کا موجود ہونا ہی کافی ہے۔ اگر بہن صرف ایک ہو تو والدہ دوبارہ تہائی لیتی ہیں، کیونکہ آیت میں اخوۃ یعنی دو یا زیادہ کا لفظ ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جو ہاتھ کے حساب میں عموماً رہ جاتا ہے، کیونکہ یہ عجیب لگتا ہے: جسے کچھ نہ ملے وہ کسی اور کا حصہ کیسے بدل سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآنی شرط اِس پر ہے کہ کون زندہ ہے، اِس پر نہیں کہ کسے ملتا ہے۔ تفصیل اس مضمون میں ہے۔
عمرؓ کے دو مسئلے
ایک صورت ایسی ہے جس میں والدہ کو پورے ترکے کی تہائی نہیں ملتی حالانکہ اوپر والی کوئی بات لاگو نہیں ہوتی۔ جب زندہ ورثاء صرف شریکِ حیات، والدہ اور والد ہوں، تو والدہ کو شریکِ حیات کا حصہ نکالنے کے بعد جو بچے اُس کی تہائی ملتی ہے — پورے ترکے کی نہیں۔
| زندہ ورثاء | شریکِ حیات | والدہ | والد |
|---|---|---|---|
| شوہر، والدہ، والد | ۱/۲ | ۱/۶ | ۱/۳ |
| بیوی، والدہ، والد | ۱/۴ | ۱/۴ | ۱/۲ |
کوئی چوتھا وارث شامل ہو جائے تو یہ حکم ختم ہو جاتا ہے، اور والدہ سیدھا اپنا چھٹا حصہ لیتی ہیں۔
حل شدہ مثال: والدہ تہائی سے زیادہ بھی لے سکتی ہیں
ایک شخص نے والدہ اور ایک بیٹی چھوڑی، ترکہ ۱۸ لاکھ۔
والدہ کو ۱/۶ اور بیٹی کو ۱/۲ — یعنی مل کر دو تہائی۔ بچی ہوئی تہائی کا کوئی عصبہ نہیں، اس لیے حنفی اور حنبلی مکتبِ فکر میں وہ اُنہی کو تناسب سے واپس ہو جاتی ہے:
| وارث | مقررہ حصہ | رد کے بعد | رقم |
|---|---|---|---|
| والدہ | ۱/۶ | ۱/۴ | ۴۵۰,۰۰۰ |
| بیٹی | ۱/۲ | ۳/۴ | ۱,۳۵۰,۰۰۰ |
مالکی اور شافعی مکتبِ فکر میں وہ بچا ہوا حصہ بیت المال میں جاتا ہے، اس لیے والدہ کا چھٹا اور بیٹی کا نصف ہی رہتا ہے۔ کیلکولیٹر دونوں نتیجے ساتھ ساتھ دکھاتا ہے — دیکھیں عول اور رد۔
عام سوالات
کیا والدہ شادی شدہ بیٹے سے وارث بنتی ہیں؟
جی ہاں۔ شادی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ بہو اور پوتوں کے ساتھ اپنا چھٹا حصہ لیتی ہیں۔
اگر والدین دونوں زندہ ہوں اور اولاد نہ ہو؟
والدہ کو تہائی اور والد کو باقی — یعنی اُن کا دُگنا۔ اگر شریکِ حیات بھی زندہ ہوں تو اوپر بیان کردہ عمرؓ کے مسئلے دیکھیں۔
کیا والدہ کے انتقال پر دادی یا نانی اُن کی جگہ لے لیتی ہیں؟
نہیں۔ دادی نانی کو چھٹا حصہ ملتا ہے، سب کے درمیان مشترک، اور والدہ کی موجودگی میں وہ بالکل محروم ہوتی ہیں۔ نانی کو والد محروم نہیں کرتے؛ دادی کو کرتے ہیں۔
اپنا معاملہ خود نکالیں
زندہ ورثاء درج کریں اور ہر حصہ وجہ سمیت دیکھیں۔
کیلکولیٹر کھولیںمتعلقہ مضامین
-
بیٹی کا میراث میں حصہ
"بیٹی کو بیٹے سے آدھا ملتا ہے" — یہ جملہ سب جانتے ہیں، اور یہ صرف ایک صورت میں درست ہے۔ باقی صورتوں میں بیٹی پورے ترکے کا مقررہ نصف لیتی ہے، یا بہنوں کے ساتھ…
-
بہن بھائیوں کا وراثت میں حصہ
خاندانی جھگڑے اکثر بہن بھائیوں کے حصے پر شروع ہوتے ہیں، اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ لفظ "بھائی" تین مختلف وارثوں پر بولا جاتا ہے جن کے احکام الگ الگ…
-
بیوی کا وراثت میں حق
بیوی کا حصہ فرائض کے آسان ترین اصولوں میں سے ہے، اور سب سے زیادہ غلط لگائے جانے والوں میں بھی — عموماً دو طریقوں سے: ہر بیوی کو الگ پورا حصہ دے دینا، اور بچا…