تحریر Muhammad Faisal, Editorial team 3 منٹ تازہ کاری
"بیٹی کو بیٹے سے آدھا ملتا ہے" — یہ جملہ سب جانتے ہیں، اور یہ صرف ایک صورت میں درست ہے۔ باقی صورتوں میں بیٹی پورے ترکے کا مقررہ نصف لیتی ہے، یا بہنوں کے ساتھ دو تہائی، اور بعض خاندانوں میں اس سے بھی زیادہ۔ ہر صورت ہندسوں کے ساتھ نیچے موجود ہے۔ اپنا معاملہ کیلکولیٹر میں نکال لیں۔
تین صورتیں
اکیلی بیٹی، بھائی نہیں: نصف
اکیلی بیٹی جس کا کوئی بھائی نہ ہو، پورے ترکے کا نصف مقررہ حصے کے طور پر لیتی ہے (النساء ۴:۱۱)۔ یہ عصبہ سے پہلے ملتا ہے۔
دو یا زیادہ بیٹیاں، بھائی نہیں: دو تہائی مشترکہ
دو یا زیادہ بیٹیاں، بھائی کے بغیر، آپس میں دو تہائی برابر تقسیم کرتی ہیں۔ دو بیٹیوں کو تہائی تہائی، تین کو ۲/۹ فی کس۔
بھائی کے ساتھ: دو کے مقابلے میں ایک
جب بیٹا موجود ہو تو بیٹیاں مقررہ حصے والی نہیں رہتیں۔ بھائیوں کے ساتھ مل کر وہ باقی ماندہ لیتی ہیں، اور ہر بھائی کو ہر بہن سے دُگنا ملتا ہے۔ غور کریں: یہ تناسب باقی ماندہ پر لگتا ہے، پورے ترکے پر نہیں۔
حل شدہ مثالیں
بیٹی نصف سے زیادہ بھی لے سکتی ہے
ایک شخص کا انتقال ہوا، ترکہ ۲۴ لاکھ۔ زندہ: بیوی، والدہ اور ایک بیٹی۔
بیوی کو آٹھواں = ۳ لاکھ۔ والدہ کو چھٹا = ۴ لاکھ۔ بیٹی کو نصف = ۱۲ لاکھ۔ یہ ۲۱/۲۴ بنتا ہے، ۳/۲۴ بچ جاتا ہے اور کوئی عصبہ نہیں — تو رد لگے گا۔ بچا ہوا والدہ اور بیٹی کو تناسب سے واپس ہوگا، بیوی کو نہیں۔
| وارث | آخری حصہ | رقم |
|---|---|---|
| بیوی | ۱/۸ | ۳۰۰,۰۰۰ |
| والدہ | ۷/۳۲ | ۵۲۵,۰۰۰ |
| بیٹی | ۲۱/۳۲ | ۱,۵۷۵,۰۰۰ |
بیٹی کو ترکے کا تقریباً دو تہائی ملا — کسی چیز کا "آدھا" نہیں۔
اکیلی بیٹی، اور کوئی نہیں
اگر کسی کا واحد وارث ایک بیٹی ہو تو مقررہ نصف کے بعد باقی نصف بھی رد کے ذریعے اُسی کو ملتا ہے، یعنی پورا ترکہ۔
بیٹی اور میت کی بہن
ایک شخص نے ایک بیٹی اور ایک حقیقی بہن چھوڑی۔ بیٹی اپنا مقررہ نصف لیتی ہے۔ بہن اپنا معمول کا نصف نہیں لیتی — بیٹی کی موجودگی اُسے عصبہ بنا دیتی ہے، اس لیے وہ باقی ماندہ لیتی ہے، جو یہاں نصف ہی بنتا ہے۔ اکثر خاندان سمجھتے ہیں کہ بیٹی بہن کو محروم کر دیتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
پوتی کا کیا ہوگا
اگر بیٹا والد سے پہلے فوت ہو گیا ہو تو اُس کی بیٹی یعنی پوتی پھر بھی وارث بن سکتی ہے۔ بیٹا اور بیٹی دونوں نہ ہوں تو وہ بیٹی کی جگہ نصف یا دو تہائی لیتی ہے۔ ایک بیٹی موجود ہو تو پوتیاں چھٹا حصہ لیتی ہیں — وہ چھٹا جو دو تہائی مکمل کرتا ہے۔ دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں تو وہ محروم ہو جاتی ہے، الا یہ کہ اُس کے درجے کا پوتا موجود ہو۔
پاکستان میں ایک اہم قانونی فرق ہے: مسلم فیملی لاز آرڈیننس ۱۹۶۱ کی دفعہ ۴ کے تحت پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد وہ حصہ لیتی ہے جو اُن کے والد یا والدہ لیتے۔ تفصیل اس مضمون میں ہے۔
عام سوالات
کیا والد وصیت کے ذریعے سب کچھ بیٹی کو دے سکتا ہے؟
نہیں۔ وصیت ترکے کے ایک تہائی تک محدود ہے اور عام طور پر کسی ایسے شخص کے حق میں نہیں ہو سکتی جو پہلے ہی وارث ہو۔ بیٹی کا حصہ حق ہے، اجازت نہیں۔
کیا بیٹی کو وراثت سے نکالا جا سکتا ہے؟
نہیں۔ اُس کا حصہ نص سے ثابت ہے۔ زندگی میں حقیقی طور پر دی گئی جائیداد الگ معاملہ ہے، اور ایسے ہبے جو خاص طور پر کسی وارث کو محروم کرنے کے لیے کیے جائیں متنازع ہیں — یہ سوال اہلِ علم کے سامنے رکھیں۔
کیا شادی شدہ بیٹی بھی وارث بنتی ہے؟
جی ہاں۔ شادی سے بیٹی کے حصے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اپنا معاملہ خود نکالیں
زندہ ورثاء درج کریں اور ہر حصہ وجہ سمیت دیکھیں۔
کیلکولیٹر کھولیںمتعلقہ مضامین
-
بہن بھائیوں کا وراثت میں حصہ
خاندانی جھگڑے اکثر بہن بھائیوں کے حصے پر شروع ہوتے ہیں، اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ لفظ "بھائی" تین مختلف وارثوں پر بولا جاتا ہے جن کے احکام الگ الگ…
-
بیوی کا وراثت میں حق
بیوی کا حصہ فرائض کے آسان ترین اصولوں میں سے ہے، اور سب سے زیادہ غلط لگائے جانے والوں میں بھی — عموماً دو طریقوں سے: ہر بیوی کو الگ پورا حصہ دے دینا، اور بچا…
-
پوتے پوتیوں کا وراثت میں حصہ
یہ علمِ فرائض کا وہ سوال ہے جس کا نرمی سے جواب دینا سب سے مشکل ہے، کیونکہ کلاسیکی اصول اکثر اُس بیٹے کی اولاد کو کچھ نہیں دیتا جو جوانی میں فوت ہو گیا ہو — اور…