تحریر Muhammad Faisal, Editorial team 4 منٹ تازہ کاری
اصل ترکے میں مقررہ حصے جوڑیں تو اکثر وہ ٹھیک ایک پر نہیں بیٹھتے۔ کبھی پورے ترکے سے زیادہ ہو جاتے ہیں، کبھی کم رہ جاتے ہیں اور اُنہیں لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ علمِ فرائض میں دونوں کا الگ نام اور الگ حل ہے — عول اور رد — اور یہی دو مقامات ہیں جہاں سادہ کیلکولیٹر غلطی کرتے ہیں۔ یہ کیلکولیٹر نتیجے پر بتا دیتا ہے کہ کون سا لگا۔
عول: جب حصے زیادہ ہو جائیں
مشہور مثال لیجیے۔ ایک شخص نے بیوی، دو بیٹیاں، والد اور والدہ چھوڑے۔
- بیوی: ۱/۸، کیونکہ اولاد موجود ہے
- دو بیٹیاں: ۲/۳ مشترکہ
- والد: ۱/۶
- والدہ: ۱/۶
۲۴ کے مشترکہ مخرج پر یہ ۳ + ۱۶ + ۴ + ۴ = ۲۷/۲۴ بنتا ہے۔ یعنی جتنا ترکہ ہے اُس سے تین چوبیسویں زیادہ۔
حل یہ نہیں کہ کسی ایک کا حصہ کاٹ دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ مخرج بڑھا کر میزان کے برابر کر دیا جائے، تاکہ سب کا حصہ ایک ہی تناسب سے کم ہو:
| وارث | پہلے | عول کے بعد |
|---|---|---|
| بیوی | ۳/۲۴ | ۳/۲۷ |
| دو بیٹیاں | ۱۶/۲۴ | ۱۶/۲۷ |
| والد | ۴/۲۴ | ۴/۲۷ |
| والدہ | ۴/۲۴ | ۴/۲۷ |
اس مسئلے کو منبریہ کہتے ہیں۔ حضرت علیؓ سے کوفہ کے منبر پر پوچھا گیا اور روایت ہے کہ انہوں نے بغیر رُکے فرمایا کہ بیوی کا آٹھواں حصہ نواں ہو گیا۔ اور واقعی ۳/۲۷ بالکل ۱/۹ ہے۔
عول کے مخرج گنے چنے ہیں: ۶ سے ۷، ۸، ۹ یا ۱۰؛ ۱۲ سے ۱۳، ۱۵ یا ۱۷؛ اور ۲۴ سے صرف ۲۷۔
ایک چھوٹی مثال
ایک خاتون نے شوہر اور دو حقیقی بہنیں چھوڑیں۔ شوہر کو ۱/۲، بہنوں کو ۲/۳ — یعنی ۳/۶ + ۴/۶ = ۷/۶۔ مخرج ۷ ہو جاتا ہے: شوہر ۳/۷، بہنیں ۴/۷۔
رد: جب حصے کم پڑ جائیں
اُلٹی صورت۔ ایک شخص نے والدہ اور ایک بیٹی چھوڑی، اور کوئی نہیں۔
- والدہ: ۱/۶
- بیٹی: ۱/۲
یہ دو تہائی بنتا ہے۔ ترکے کی ایک تہائی بچ جاتی ہے، اور کوئی بیٹا، بھائی، چچا یا دوسرا عصبہ نہیں جو اُسے لے۔
حنفی اور حنبلی مکتبِ فکر میں بچا ہوا حصہ ذوی الفروض کو اُن کے حصوں کے تناسب سے واپس کر دیا جاتا ہے۔ والدہ اور بیٹی کا تناسب ۱:۳ ہے، تو بچا ہوا بھی اسی تناسب سے:
| وارث | مقررہ حصہ | رد کے بعد |
|---|---|---|
| والدہ | ۱/۶ | ۱/۴ |
| بیٹی | ۱/۲ | ۳/۴ |
وہ وارث جس تک رد کبھی نہیں پہنچتا
شوہر یا بیوی رد میں شریک نہیں ہوتے۔ اوپر والے مسئلے میں ایک بیوہ شامل کر دیں — بیوی، والدہ اور ایک بیٹی — تو بیوی کو بالکل اُس کا آٹھواں ہی ملے گا، اور باقی سات آٹھویں والدہ اور بیٹی میں اُسی ۱:۳ کے تناسب سے بٹیں گے۔
| وارث | مقررہ حصہ | رد کے بعد |
|---|---|---|
| بیوی | ۱/۸ | ۱/۸ |
| والدہ | ۱/۶ | ۷/۳۲ |
| بیٹی | ۱/۲ | ۲۱/۳۲ |
مالکی اور شافعی مکتبِ فکر
یہ دونوں رد نہیں لگاتے۔ اُن کے ہاں بچا ہوا حصہ بیت المال میں جاتا ہے اور کسی کو اپنے مقررہ حصے سے زیادہ نہیں ملتا — ابن قدامہؒ نے زید بن ثابتؓ کے ساتھ امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کا نام اسی مسئلے میں لیا ہے۔ تو اوپر والی مثال میں شافعی نتیجہ یہ ہوگا: والدہ کو چھٹا، بیٹی کو نصف، اور بچی ہوئی تہائی "غیر تقسیم شدہ"۔
اگر صرف شریکِ حیات ہی وارث ہوں تو یہ کیلکولیٹر بچا ہوا حصہ خاموشی سے اُنہیں نہیں دے دیتا۔ وہ مقررہ حصہ دکھاتا ہے اور باقی کو صاف لکھ دیتا ہے۔
حساب بالکل درست کیوں ہونا چاہیے
دونوں حل ۲۷ اور ۳۲ جیسے مخرج پیدا کرتے ہیں، اور دونوں میں تہائی اور چھٹے حصے آتے ہیں۔ جو کیلکولیٹر اعشاریہ میں کام کرے وہ ۱/۳ کو ۰.۳۳۳۳۳۳ بنا دیتا ہے اور ترکے کا ایک ذرہ کہیں گم کر دیتا ہے۔ یہ کیلکولیٹر مکمل کسروں میں کام کرتا ہے اور ایسا نتیجہ دینے سے انکار کر دیتا ہے جس کے حصے ٹھیک ایک پر نہ بیٹھیں۔
عام سوالات
کیا عول میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے؟
نہیں۔ ہر وارث کا حصہ ایک ہی تناسب سے کم ہوتا ہے، اور یہی اس کا مقصد ہے۔ کسی کو نکال کر کسی اور کو پورا نہیں دیا جاتا۔
بیوہ رد میں شریک کیوں نہیں ہوتی؟
کیونکہ ازدواجی رشتہ وفات پر ختم ہو جاتا ہے، جبکہ خونی رشتے جن کی بنا پر واپسی ہوتی ہے وہ ختم نہیں ہوتے۔ کلاسیکی کتب یہی وجہ بیان کرتی ہیں۔
میں کیسے جانوں کہ میرے معاملے میں کون سا لاگو ہے؟
مقررہ حصے جوڑ لیں۔ ترکے سے زیادہ ہوں تو عول؛ کم ہوں اور کوئی عصبہ نہ ہو تو رد؛ بالکل برابر ہوں تو کوئی نہیں۔ یا کیلکولیٹر میں ورثاء درج کر دیں، وہ نتیجے پر بتا دے گا۔
اپنا معاملہ خود نکالیں
زندہ ورثاء درج کریں اور ہر حصہ وجہ سمیت دیکھیں۔
کیلکولیٹر کھولیںمتعلقہ مضامین
-
اہلِ حدیث اور وراثت
اہلِ حدیث — پاکستان میں اکثر "غیر مقلد" کہے جانے والے — حضرات سے بارہا کہا جاتا ہے کہ اُن کے ہاں وراثت "الگ طرح" چلتی ہے۔ زیادہ تر ترکوں میں یہ بات درست نہیں،…
-
وراثت سے کون محروم ہوتا ہے
جن رشتہ داروں کو کچھ نہیں ملتا وہ ہمیشہ پوچھتے ہیں: کیوں؟ جواب تقریباً کبھی من مانی نہیں ہوتا۔ علمِ فرائض میں محرومی کے واضح اصول ہیں جنہیں حجب کہتے ہیں، اور…
-
بیٹی کا میراث میں حصہ
"بیٹی کو بیٹے سے آدھا ملتا ہے" — یہ جملہ سب جانتے ہیں، اور یہ صرف ایک صورت میں درست ہے۔ باقی صورتوں میں بیٹی پورے ترکے کا مقررہ نصف لیتی ہے، یا بہنوں کے ساتھ…